اخیر تراویح میں سورۂ بقرہ کا کچھ حصہ پڑھنا
سوال
حفاظ رمضان شریف میں آج کل عموماً یوں ختم قرآن کرتے ہیں کہ انیسویں رکعت میں قرآن ختم کرتے ہیں، اور بیسویں رکعت میں الم سے مفلحون تک پڑھتے ہیں، شامی نے بھی اس کو بغیر کراہت جائز لکھا ہے اور مولوی عبدالحئی صاحب فرنگی محلی نے بھی اس کو مستحسن یا مستحب لکھا ہے، بہار شریعت میں مولانا احمد رضا خاں صاحب نے بھی اسکو مستحب لکھا ہے مگر بعض صاحبان یہ کہتے ہیں کہ اگر اٹھارویں رکعت میں قرآن ختم کیا جائے اور انیسویں اور بیسویں میں الم سے حسب منشاء پڑھ کر ختم قرآن کریں تو زیادہ بہتر ہے، تا کہ ترتیب میں بھی فرق نہ ہو اور حدیث ہے…
جواب
اصل مقصود حدیث الحال المرتحل پر عمل کرنا ہے، وہ دونوں صورتوں میں حاصل ہے لیکن انیسویں میں ختم کر کے بیسویں میں شروع کرنے سے خلاف ترتیب لازم آتا ہے، جو کہ مکروہ ہے، شامی میں اس صورت کو کراہت سے مستثنیٰ کیا ہے۔ تنبیہ: لیکن بیسویں میں الم سے شروع کر کے مفلحون تک پڑھ کر رکھ دینا اور پھر آئندہ سال رمضان شریف کی پہلی شب کو الم سے شروع کرنا اور درمیانی گیارہ ماہ تک بند اور ملتوی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔