تراویح میں پارہ عم پڑھے یا الم ترکیف؟
سوال
اگر کسی شخص کو صرف کلام اللہ کا تیسواں پارہ (پارہ عم) یاد ہے، اور وہ چاہتا ہے کہ تراویح میں روزانہ صرف وہی ایک پارہ جو صاحب موصوف کو یاد ہے، بحیثیت امام کے پڑھیں اور سنائیں اس طرح ہر روز ایک ہی پارہ پڑھنا بہتر ہے یا الم تر کیف سے نماز تراویح ادا کر لی جائے؟ مہربانی فرما کر تحریر فرمائیں چونکہ رمضان المبارک میں ایک ہفتہ بھی باقی نہیں، تو اس جگہ اور بھی مشہور مساجد ہیں جہاں ختم قرآن ہوا کرتا ہے۔
جواب
به نسبت الم تر کیف کے ہر روز تیسواں پورا پارہ پڑھنا افضل ہے، پورا قرآن شریف تراویح میں ختم کرنا مسنون ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔