تراویح میں غلبہ ظن سے پڑھنا
سوال
تراویح میں جو قرآن شریف پڑھتے ہیں تو شک ہو جاتا ہے کہ یہاں واؤ ہے یا خا ہے، یا اور کسی طرح کا شک تو حافظ نے غلبہ ظن سے پڑھ دیا تو وہ صحیح نکلا تو نماز ہوگی یا نہیں؟ اور اسی طرح غلط پڑھا مگر معنی نہیں بدلے مثلاً من قبلهم كى جگہ قبلهم پڑھ دیا تو نماز ہوئی یا نہیں؟ اور اگر یہ صورت فرائض میں پیش آجائے تو کیا حکم ہے؟
جواب
سب صورتوں میں نماز صحیح ہو گئی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔