ہر سورہ پر بسم الله
سوال
عبداللہ نے تراویح میں قرآن کریم اس طرح پر سنایا کہ ہر سورۃ شریف سے پہلے بسم اللہ بالجہر پڑھی اور جب سورۃ الضحی کو پہنچا تو ہر سورۃ شریف کے بعد والناس تک تکبیرات پڑھیں، دریافت کرنے پر اسنے کہا اگر چہ میں حنفی المذہب ہوں لیکن میں قراءت میں جس امام کی قراءت پڑھتا ہوں انکا پیرو ہوں، انکا طریقہ یہ ہی ہے، جسکو ائمہ قراءت نے اپنی تصانیف میں ذکر کیا ہے، میں انکا اتباع کرتے ہوئے بسم اللہ بین السورتین اور تکبیرات در آواخر السور از واضحی تا والناس پڑھیں، چونکہ مذہب کی کسی مستند کتاب میں اسکی ممانعت میری نظر سے نہیں گذری ہے،…
جواب
جو شخص تمام کلام اللہ تراویح میں سنائے اسکو کسی ایک سورت کے شروع میں بسم اللہ شریف بالجہر پڑھنا چاہئے، ورنہ ختم قرآن شریف کی سنت اداء نہیں ہوگی اگر آہستہ پڑھیگا تو مقتدیوں کا قرآن شریف پورا نہیں ہوگا، بلکہ ایک آیت کی کمی رہ جائیگی: لو قرأ تمام القرآن في التراويح ولم يقرأ البسملة فى ابتداء سورة من السور سواء ما في النملة لم يخرج عن عهدة السنية ولو قرأها سراً خرج عن العهدة لكن…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔