تکرار فاتحہ، وہر سورۃ کے شروع میں بسم اللہ
سوال
بعض حافظوں کی یہ عادت ہے کہ آخری تراویح کی رکعت اخری میں فاتحہ کے بعد سورہ ناس پڑھ کر الحمد للہ اور سورہ بقرہ کے کسی قدر ایک رکعت پڑھتے ہیں اب تکرار فاتحہ کی وجہ سے کیا کچھ خرابی نہیں ہے۔ دیگر اینکہ اگر ایک ہی رکعت میں کوئی شخص کئی سورۃ پڑھے تو ہرا ایک سورۃ کے اول میں بسم اللہ پڑھنی چاہئے یا نہیں، پڑھیں تو کس طرح؟
جواب
(۱) اس میں کوئی خرابی نہیں، تکرار فاتحہ اگر متوالیا ہو تو اس سے سجدہ سہو لازم آتا ہے، اگر سورت کا فصل درمیان میں آجائے، تو اس سے سجدہ سہولازم نہیں آتا: ولو کرها (الفاتحة) في الأوليين يجب عليه سجود السهو لانه اخر واجباً وهو السورة بخلاف مالو اعادها بعد السورة اوكررها في الآخريين اه (زیلعی ص ۱۹۳/ ج ۱) تاہم اسکو معمول نہیں بنانا چاہئے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔