الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جس نے فرض عشاء جماعت سے نہ پڑھی تو وہ تراویح اور وتر کیسے پڑھے؟

سوال

جو شخص عشاء کی فرض نماز نہ پڑھ سکا ہوتو کیا وہ تراویح اور وتر کی نماز جماعت سے ادا کر سکتا ہے یا نہیں؟ کیونکہ اب رمضان میں بہت سے لوگ عذر کی وجہ سے مسجد میں تاخیر سے آتے ہیں، اور فرض نماز جماعت ان کے آنے سے قبل ہو جاتی ہے، تو اب وہ فرض نماز علیحدہ سے پڑھے گا اور تراویح و وتر میں جماعت کے ساتھ شریک ہو جائے گا کسی ایک مدرسہ کا اشتہار آیا ہوا ہے، اس میں یہ درج ہے کہ جو عشاء فرض با جماعت نہ پڑھ سکتا ہو وہ وتر کو جماعت کے ساتھ نہ پڑھے اور حوالہ شامی کا دے رکھا ہے، عبارت یہ ہے ” اذالم يصل الفرض معه لم يتبعه في الوتر…

جواب

امام اعظم کے نزدیک وتر نماز مستقل نماز ہے،اس کی جماعت عشاء کی جماعت کے تابع ہے، جو شخص جماعت فرض عشاء میں شریک نہیں ہوسکا، وہ جماعت وتر میں شریک ہو سکتا ہے، جب مسجد میں عشاء کی نماز جماعت سے ادا کی گئی اور کوئی شخص متخلف رہ گیا، بعد میں آیا تو وہ تنہا فرض پڑھ کر تراویح کی جماعت میں شریک ہوجائے ”ولو تركوا الجماعة في الفرض لم يصلوا لتراويح جماعة لانها تبع فمصليه وحده يصليها معه…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو