الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

الم ترکیف سے پڑھنا کب اور کیوں ایجاد ہوا

سوال

بعض مولوی تیسرے طریقہ سے پڑھتے ہیں، کہ ہر رکعت میں دو دو سورت ساتھ ساتھ پڑھتے ہیں سورہ ناس تک جاتے ہیں تا کہ دوبارہ سورہ ناس سے نہ پڑھے، اول رکعت میں الم ترکيف ولایلاف اسی طرح تیسری رکعت میں ارأيت الذي وانا اعطينا اور چوتھی میں بھی یہی سورتیں یعنی ارأیت الَّذِی اور انا اعطینا اس طرح ہر رکعت میں دودو سورتیں سورہ ناس تک پڑھتے ہیں الم ترکیف کا طریقہ کب اور کس طرح اور کس نے ایجاد کیا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور صحابہ سے الم ترکیف سے تراویح پڑھنا کس طرح ثابت ہے، اور تین طریقوں میں سے کونسا افضل ہے، اور کس…

جواب

اس طرح بھی درست ہے، صحابہ کے زمانہ میں تو الم ترکیف سے پڑھنے کا رواج نہ تھا، متاخرین جب دیکھا کہ پورا قرآن ختم کرنے کی صورت میں نمازی سستی کرتے ہیں مسجد میں نہیں آتے مساجد ویران و غیر آباد ہو جاتی ہیں تب ان صورتوں کو اختیار کیا ہے شاید آپ نے شفعہ کی جگہ رکعت لکھ دیا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو