الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

چار رکعت تراویح بغیر قعدہ اولی کے

سوال

(۱) دو رکعت تراویح کی نیت باندھی مگر التحیات کے واسطے دو رکعت کے بعد امام نہیں بیٹھا تیسری کے بعد بیٹھنے لگا تو مقتدی نے تکبیر کہہ کر اٹھا دیا پھر چوتھی کے بعد سلام پھیر دیا اور سجدہ سہو نہیں کیا، اس صورت میں یہ امور دریافت طلب ہیں۔ (۱) دورکعت کے بجائے چار پڑھی گئیں، بلکہ یہ کہنا مناسب ہے کہ امام نے تو دوہی پوری کیں مگر ہو گئیں چار، یہ چار ہوئیں یا دو باطل ہو گئیں، اور اگر باطل ہوگئیں تو قضا دو کی آئے گی یا چار کی۔ (۲) اس صورت مذکورہ میں سجدہ سہو آویگا یا نہیں اگر آویگا تو اسکی وجہ بیان فرمائی جائے۔ (۳)

جواب

عبارات بالا سے معلوم ہوا کہ اس مسئلہ میں اختلاف ہے، اظہر روایت شیخین کی یہ ہے کہ نماز فاسد نہیں ہوئی اور مفتی بہ قول کے مطابق یہ دو رکعتیں ہوئیں، اور شفعہ اولیٰ فاسد ہو گیا، اس کا اعادہ لازم ہے۔ اس عبارت سے معلوم ہوا کہ تراویح میں شفعہ ثانیہ کے لئے کھڑا ہو جانا بغیر شفعہ اولیٰ کا قعدہ کئے اور بغیر شفعۂ ثانیہ کی نیت کئے ہوئے بھی شفعہ ثانیہ کے شروع کے لئے صحیح ہے اگر چہ قعدہ نہ…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو