فرض گھر پڑھ کر تراویح مسجد میں پڑھنا
سوال
ایک شخص پابند صلوۃ و صوم محض ماہِ رمضان المبارک میں اپنے گھر پر نماز تراویح کے اہتمام کے ساتھ بعض مجبوریوں کے تحت نماز عشاء جماعت کے ساتھ گھر پر ہی ادا کر لیتا ہے کیونکہ عام طور پر مسجد سے گھر واپس آنے میں تراویح ساتھ پڑھنے والے نمازی مسجد میں رہ جاتے ہیں تو ایسی صورت میں کیا ایسے شخص پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پاک جس میں آپ نے گھر میں نماز پڑھنے والوں کیلئے انکے گھروں میں آگ لگا دینے کو فرمایا ہے وعید عائد ہوتی ہے اور فرض عشاء گھر پر اداء کرنا کیسا ہے۔
جواب
یہ وعید تو ایسے لوگوں کے حق میں ہے جو لا پرواہی اور سستی کی وجہ سے جماعت کا اہتمام نہیں کرتے تھے، صورت مسئولہ میں اگر کوئی مجبوری ایسی ہے جسکی وجہ سے شریعت نے ترک جماعت کی اجازت دی ہے تو یہ شخص اس وعید میں داخل نہیں ہوگا، بغیر مجبوری کے جماعت مسجد کو ترک کر دینا بڑی محرومی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔