امام تراویح میں سنائے اور سامع نہ ہو اور مقتدی سمجھے کہ امام نے غلط پڑھا تو کیا حکم ہے؟
سوال
نماز تراویح اگر ایک ہی حافظ پڑھائے اور سامع کوئی نہ ہو اور حافظ کوئی غلطی کر جائے تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ (۱) ایسی صورت میں قرآن شریف تراویح میں سنے یا الم ترکیف سے؟ (۲) اگر مقتدیوں کو شبہ ہو جائے تو ایسی حالت میں مقتدی کیا کرے؟ (۳) اگر قرآن شریف کی وجہ سے مقتدی تراویح کم پڑھتے ہوں تو کیا مقتدیوں کا لحاظ کرتے ہوئے الم ترکیف سے پڑھے؟ (۴) اگر حافظ کو اطمینان ہو اور مقتدیوں کو نہ ہو تو ایسی صورت میں کیا کرے؟ (۵) بعض مقتدیوں کا خیال ہے کہ اگر حافظ صاحب کو یوں اطمینان ہوتا تو قرآن شریف کو بار بار کھولنے کا کیا مطلب ہے؟
جواب
(۱) اگر پختہ حافظ ہو کہ اسکو خوب یاد ہو، بغیر تراویح بھی پڑھنے اور سنانے کی وجہ سے بار بار تجربہ ہو چکا ہے تو اس کیلئے مضائقہ نہیں ہے بلا وجہ غلطی کا اس پر وہم نہ کیا جائے اگر حافظ ایسا نہ ہو تو اس کے پیچھے کوئی حافظ رہنا چاہئے تا کہ بھول پر بتا سکے اور غلط نہ پڑھنے دے ورنہ الم ترکیف سے پڑھ لی جائے۔ (۲)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔