الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ایک مسجد میں تراویح کی دو جماعت یا دو امام کامل کر تراویح پڑھانا

سوال

ایک متوسط جامع مسجد میں دو حصے ہیں اوپر نیچے، تو رمضان المبارک میں اوپر نیچے دونوں جگہ تراویح ہو سکتی ہے، یعنی ہر حصہ کے علیحدہ امام ہیں، دونوں ایک ہی مکتبہ فکر کے ہیں، تو ایسی صورت میں کیا اجازت ہے، جب کہ نیچے بہت جگہ ہے اور دونوں حافظوں کا کوئی سامع نہیں ہے، تو یہ صورت مناسب ہے کہ ایک حافظ پڑھے اور دوسرا سنے یا یہ صورت بہتر ہے کہ اوپر نیچے تراویح علیحدہ علیحدہ ہو جائے؟

جواب

تراویح دو جگہ بھی ہو سکتی ہے، بشرطیکہ آوازوں میں ٹکراؤ نہ ہو، مگر اچھا یہی ہے کہ امام کے پیچھے سب تراویح پڑھیں، اور دوسرے حافظ سامع کی حیثیت سے پیچھے رہیں تا کہ اگر لقمہ دینے کی ضرورت پیش آئے تو آسانی رہے، پھر چاہیں ایسا کریں کہ ایک شب ایک امام صاحب تراویح پڑھائیں، اور دوسری شب دوسرے امام صاحب تراویح پڑھائیں، یا ۸ رکعت ایک امام صاحب پڑھائیں اور بارہ رکعت دوسرے امام صاحب…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو