الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تراویح میں نابالغ کی امامت

سوال

دس بارہ سال کا لڑکا حافظ قرآن ہو جائے، نابالغ ہے تو کیا وہ ماہ رمضان شریف میں تراویح دیگر لوگوں کو سنا سکتا ہے، مقتدیوں کی تراویح ختم ہو جائے گی۔ مولوی غلام احمد صاحب شیخ الجامعه مدرسه جامع عالیہ بھاولپور کا فتویٰ موجود ہے کہ نابالغ حافظ تراویح میں قرآن شریف سنا سکتا ہے اور تراویح ہو جاتی ہے کیا مسئلہ مختلف فیہ ہے اور اگر مختلف فیہ ہے تو فتویٰ کس پر ہے۔

جواب

فتاوی قاضی خاں فی امامة الصبیان فی التراویح میں ہے: اختلفوا فيه قال مشائخ العراق وبعض مشائخ بلخ لا يجوز وقال بعضهم يجوز وعن نصير بن يحيى انه سئل عنها قال تجوز اذا كان ابن عشر سنين وقال شمس الائمة السرخسي الصحيح انه لا يجوز لانه غير مخاطب وصلاته ليست بصلوة على الحقيقة فلا تجوز امامته كامامة المجنون ان ام الصبيان يجوز لان صلوة الامام مثل صلوة المقتدى الخ (ص ۲۴۳ ر ج ۱)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو