دو رکعت نفل کی قضاء چار رکعت سے یا اس کا عکس
سوال
(الف) اگر کسی شخص نے بہت رکعت نماز، دورکعت کر کے پڑھنا شروع کیں مگر توڑ دی تو اگر ایک دفعہ چار، چار، یا آٹھ، آٹھ کی نیت سے قضاء کر لیوے تو درست ہے یا نہیں؟ (ب) اسی طرح اگر چار نفل یا سنن غیر موکدہ اکھٹے پڑھے مگر بعد میں فساد ظاہر ہوا یا چار رکعت نماز کی نذر کی مگر ادا دو دو کی تو یہ صحیح ہے یا نہیں؟ (ج) تراویح کی نیت کر کے توڑ دی یا سنن موکدہ کی نیت کر کے توڑ دی تو بعد گذر نے وقت کے قضاء لازم ہے یا نہیں؟ اور اگر وقت میں پڑھے تو نیت واجب کی کرے یا کس کی؟ (د)
جواب
(الف) بہتر یہ ہے کہ دودو کی الگ قضاء کرے چار چار کی بھی درست ہے رات میں چھ چھ، آٹھ آٹھ کی بھی درست ہے۔ (ب) اس میں چار چار پڑھنا بہتر ہے دو دو بھی صحیح ہے۔ (ج) سنن موکدہ کی صورت مسئولہ میں قضاء نہیں تراویح کو بغیر جماعت کے قضاء پڑھے وقت میں نیت اعادہ کرے بعد وقت کے نیت قضا فاسدہ کرے۔ (د) ادا ہو جائے گی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔