ایک آیت کے چھوٹ جانے سے نماز کا حکم
سوال
ایک امام نے جمعہ کی فرض نماز میں عم يتساءلون“کے رکوع سے یعنی”ان للمتقين مفازا سے قرآت شروع کی اور سورت ختم کر کے رکعت پوری کی مگر سہواً درمیان قراءت لا يملكون منه“چھوٹ گیا ایسی صورت میں کوئی خرابی پیدا ہوئی کہ نہیں؟
جواب
اس لا يَمْلِكُونَ مِنْهُ “کے چھوٹ جانے سے معنی ایسے نہیں بگڑے کہ نماز فاسد ہو جائے بلکہ تاویل ممکن ہے جو کہ نماز کو فساد سے بچانے کے لئے کافی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔