الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نماز میں ایک آیت کا چھوٹنا

سوال

فجر میں امام صاحب نے سورہ فاتحہ کے بعد سورۂ والفجر شروع کی تو پڑھتے پڑھتے ایک آیت والليل إذا يسر چھوڑ دی اور آگے پھر سورہ شریف پڑھ لی اس طرح اب نماز سے فارغ ہونے کے بعد کچھ آدمیوں نے جو مقتدی شامل تھے مشکوک حالت میں انفرادی طور پر دوبارہ الگ الگ نماز پڑھی دوسری دفعہ پھر ایسی ہی غلطی ہوئی، والشمس پڑھی لیکن حسب سابق پڑھتے پڑھتے والأرض وما طحاها چھوڑ دی اور باقی سورہ مکمل کر کے نماز پڑھی اس طرح سہوا یا بوجہ یاد نہ ہونے کے قصداً نماز پڑھانے سے ادا ہو جاتی ہے اور اعراب کی غلطیوں تک کی پرواہ نہیں کرتے جب کہ وہ معنی نہیں…

جواب

ان دونوں جگہ بھول کر امام نے جو آیتیں چھوڑ دی ہیں اس کی وجہ سے نماز فاسد نہیں ہوتی ہے اگر کوئی صحیح العقیدہ مسائل سے واقف امام مل جائے تو وہ بڑی نعمت ہے لیکن جب سارا علاقہ یہی دورافتادہ ہے اور کوئی بھی معنی سمجھنے والا نہ ہو تو ان میں سے جو بہتر حالت میں ہو اسی کو امام بنالیا جائے ایسی حالت میں امام کو چاہئے کہ چند سورتیں صحیح اور پختہ یاد کرے اور ان کو ہی نماز میں پڑھا کرے تا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو