الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نماز میں معین آدمی کا انتظار

سوال

کیا ایک شخص کے باعث جماعت میں تاخیر کرنا جائز ہے جب کہ مستقل امام موجود ہو اگر وہ شخص نہیں آتا تو بجائے ایک بجے کے ڈیڑھ اور ۲ بجے جماعت ہوتی ہے اور اس کے بلانے کے لئے پے در پے آدمی بھیجا جاتا ہے یہ فعل عند الشرع مذموم ہے یا ممدوح؟

جواب

وقت مقررہ پر اگر اور نمازی آجائیں تو کسی خاص شخص کا انتظار جائز نہیں مگر جب وقت مستحب میں گنجائش ہو اور قوم پر گرانی بھی نہ ہو یا وہ شخص شریر اور فتنہ پرداز ہو تو کسی قدر انتظار میں مضائقہ نہیں۔ رئيس المحلة لا ينتظر مالم يكن شرير او الوقت متسع در مختار ج ۱ ص ۴۱۵ واما الانتظار قبل الشروع في غير مايكره تاخيره كمغرب وعندضيق وقت فالظاهر عدم الكراهة ولو لمعين الا اذا ثقل على القوم…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو