الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کسی معین شخص کا نماز کے لئے انتظار کرنا

سوال

(۱) نماز با جماعت کے لئے جو وقت مقرر کیا گیا ہے وہ وقت پورا ہو جانے کے بعد دس پانچ منٹ تک کسی خاص یا عام شخص کا انتظار کرنا کیسا ہے؟ جب کہ امام بھی موجود ہو اور مقتدی حضرات بھی جمع ہوں۔ (۲) کسی خاص شخص یا اپنے محبوب دوست کا انتظار کرتے کرتے وقت تنگ رہ جانے پر نماز کے لئے کھڑا ہونا کیسا ہے، جب کہ دیگر مقتدی موجود ہوں؟

جواب

اگر مقتدیوں کو گرانی نہ ہو اور وقت کے مکروہ ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو کسی پابند جماعت کے لئے کچھ انتظار کرنے میں مضائقہ نہیں مگر اس کی عادت نہ ڈالی جائے، نہ یہ ہو کہ باوجاہت کا انتظار کیا جائے اور غریب کا انتظار نہ کیا جائے اگر چہ یہ زیادہ پابند ہو۔ (۲) مکروہ ممنوع ہے۔ تفصیل (۱) میں آگئی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو