ايضاً
سوال
سوال کچھ روز قبل مفتی عزیز الرحمن صاحب بجنوری نے ایک فتویٰ شائع کیا تھا اور اس بات پر زور دیا تھا کہ اٹلی کا مل جائے نماز (مصلی) جو عام طور سے حجاج اپنے ہمراہ حجاز سے لاتے ہیں اور اس پر حرمین شریفین کی تصویر ہوتی ہے، اس کا استعمال نماز کے لئے درست نہیں ہے اور اس پر نماز پڑھنے سے منع کیا تھا۔ ان کا خیال ہے کہ یہ یہودیوں کی سازش ہے اور اس کا مقصد نماز میں دھیان بانٹنا اور مناجات کی لذت سے غافل کر دینا ہے۔ ادھر کچھ دنوں سے اس مسئلہ پر بنارس دو گروہ ہو گئے ہیں۔
جواب
حرمین شریفین سے لائے ہوئے مصلے کے متعلق یہودیوں کی سازش اور نیت کا مجھے علم نہیں۔ اس پر جو تصویر ہے وہ ذی روح کی نہیں اس لئے تو اس حکم میں یہ داخل نہیں جس کو فقہاء نے مکروہ لکھا ہے جس میں تشبہ بعبادة الاوثان لازم آتا ہو۔ رہا نقش ونگار کا قصد تو اس میں ہی کیا منحصر ہے۔ وہ تو آج عام ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔