الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

منقش مصلے پر نماز

سوال

مفتی عزیز الرحمن صاحب بجنوری نے ایک تحقیقی مضمون سپرد قلم کیا ہے۔ جس میں اٹلی کی جانمازوں کے بارے میں تحریر فرمایا ہے کہ ان پر نمازیں نہ پڑھی جائیں۔ اس مضمون کے بعد سے لوگ دوگروہوں میں تقسیم ہو گئے ہیں۔ ایک کا خیال ہے کہ ایسے مصلوں پر نماز بالکل نہ پڑھی جائے، جس کی وجوہ حسب ذیل ہیں۔ (۱) ایسے منقش جانمازوں پر خیال پراگندہ ہوتا ہے خشوع میں فرق پڑتا ہے۔ (۲) اٹلی کی تیار شدہ جانمازوں پر نقش ونگار صیہونی سازش کے ماتحت بنائے جاتے ہیں جس کا مقصود شعائر اسلام کی توہین ہوتی ہے۔ (۳)

جواب

اس مصلے پر نماز پڑھنے سے نماز ادا ہو جائے گی، اس کے نقش ونگار کی وجہ سے اگر خشوع میں فرق آئے تو تحفظ کے لئے اس پر ایک سادہ کپڑا بچھا لیا جائے۔ آج کل اٹلی کے علاوہ دیگر مقامات کے بنے ہوئے مصلے بھی عامۃً نقش ونگار سے خالی نہیں ہوتے۔ بسا اوقات بڑی دری میں بھی نقش ونگار ہوتے ہیں۔ اکثر آدمیوں کا دھیان بھی ان نقوش کی طرف نہیں جاتا۔ اس پر خانہ کعبہ یا مسجد کا نقش بھی عامہ ہوتا ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو