الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مغرب کی نماز طویل، فجر عشاء مختصراً پڑھانا

سوال

مغرب کی نماز میں رکوع پڑھنا اور عشاء و فجر میں سورتیں پڑھنا کیسا ہے؟ کیا اس طرح نماز ہو جاتی ہے۔ امام صاحب قصداً سورہ الشمس عشاء کی پہلی رکعت میں ایک ہفتہ تک برابر روزانہ پڑھاتے ہیں جب کہ دونوں رکعتوں میں رکوع پورا نہیں ہوتا تھا اور کبھی ایسا بھی کرتے ہیں کہ پہلی رکعت میں رکوع شروع کیا اور تھوڑا سا پڑھا، رکعت پوری کی، دوسری رکعت میں دوسرا رکوع شروع کر دیا اور وہ بھی پورا نہیں کیا۔

جواب

اس طرح سب کی نماز ادا ہو جائے گی، امام صاحب پر اعتراض غلط ہے۔ اولی بات یہ ہے کہ ہر رکعت میں مستقل سورۃ پڑھی جائے۔ فجر اور ظہر میں طوال مفصل، عصر اور عشاء میں أوساط مفصل (سورہ بروج سے سورہ لم یکن تک) مغرب میں قصار مفصل (پارہ عم کے اخیر کی سورتیں) عشاء میں سورہ والشمس پڑھنے کی ترغیب خود حدیث پاک میں ہے۔ لہذا اس پر اعتراض کرنا غلط اور نا واقفیت ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو