نماز میں مفصلات پڑھنے کا حکم
سوال
فقہ کی تمام کتب میں نماز میں مفصلات پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے اور نماز کی سنتوں میں ایک سنت قراءة مسنونہ بیان کی گئی ہے۔ لیکن عام طور سے دیکھنے میں آتا ہے کہ امام اس کی مطلق پابندی نہیں کرتے، بلکہ مغرب میں طوالِ مفصل یا عشاء میں سورہ بقرہ وغیرہ پڑھا کرتے ہیں۔ تو کیا اماموں کا یہ عمل ترک سنت کی تعریف میں آتا ہے یا نہیں؟ اور ایسا پڑھنا شرعی اعتبار سے کیسا ہے؟
جواب
مسنون طریقہ تو یہی ہے کہ اکثر و بیشتر مفصلات کی قراءت کی جائے لیکن کبھی اس کے خلاف کر دیا جائے تو اس پر بھی کراہت کا حکم نہیں ہوگا۔ البتہ مقتدیوں کی رعایت بھی اہم ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔