الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مفصلات کو اہتمام سے پڑھنا

سوال

(۱) دریافت طلب امر یہ ہے کہ فقہاء کے ذکر کردہ تفصیل طوال مفصل، اوساط مفصل، قصار مفصل کے ساتھ قرآت کرنا کیسا ہے؟ اور یہ حکم صرف ائمہ کیلئے ہے یا منفرد کو بھی ہے؟ (۲) اسی ترتیب کو بلا کسی عذر کے عادةً ترک کرنا یا مکمل سورت کے بجائے درمیان سورت سے چند آیات یا ایک آدھ رکوع پڑھنا اور عادۃً اکثر و بیشتر یا ہمیشہ اس طرح پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ اور کوئی عادۃً ایسا کرتا ہو تو اس کو ٹوکنا اور مکمل سورت کے لئے متوجہ کرنا کیسا ہے؟

جواب

(۱) اس سنت کے مؤکدہ اور غیر مؤکدہ ہونے کی تصریح نہیں دیکھی، البتہ امام اور منفرد کا حکم مقدار قراءت میں یکساں ہے۔ کما فی شرح المنیة ص ۲۰۳ والدر المختار علی الشامی ص ۵۰۴ جا والبحر الرائق ص ۳۴۰ ج او مراقی الفلاح ص ۱۴۳، اس تفصیل کو فقہاء اہتمام سے ذکر کرتے ہیں اور اس کے دلائل بھی لکھتے ہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو