الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

زبردستی امام مقرر کرنا

سوال

ایک شخص دوسرے کو زبردستی سے امام مقرر کرتا ہے کیا شرعاً درست ہے اور اگر زبردستی سے امام بنایا گیا تو کیا اس کی امامت درست ہوگی اور اس کے پیچھے نماز درست ہوگی یا نہیں؟

جواب

زبردستی امام بنانا درست نہیں تا ہم اگر امام کو کوئی شرعی عذر نہ ہو تو ایسی حالت میں اس کے پیچھے نماز درست ہو جائے گی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو