مقطوع الید کی امامت
سوال
(۱) مقطوع الید کی امامت کا کیا حکم ہے؟ (۲) اگر عرصۂ دراز تک اس کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں بعد میں کچھ خود غرض کسی وجہ سے مقطوع الید ہونے کا الزام دے کر خود بھی اس کے پیچھے نماز پڑھنے سے منع کرتے ہیں دوسروں کو بھی روکتے ہیں یہ کہاں تک درست ہے اکثر سر بر آوردہ علماء کے دستخط ثبت ہوں۔
جواب
اگر وہ شخص طہارت اور پاکی ٹھیک طور پر کر لیتا ہے اور اس کا اہتمام رکھتا ہے تو اس کی امامت شرعاً درست ہے ورنہ مکروہ ہے صحیح اور سالم کی امامت بہر حال اولی ہے۔ وکذا تکرہ خلف امرد وسفيه ومفلوج وابرص فالاقتداء بغيره اولیٰ تاتارخانيه وكذا اجذم ومجبوب وحاقن ومن له يد واحدة فتاوى الصوفية عن التحفة والظاهر ان العلة النفرة ولذا قيد الابرص بالشيوع ليكون ظاهرا ولعدم امكان كمال الطهارة…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔