اندھے جھوٹے کی امامت!
سوال
کوئی شخص اندھا ہو اور امامت کرتا ہو، یا قرآت غلط پڑھتا ہو ہدایت کرنے پر عمل نہ کرتا ہو اور جھوٹ بولتا ہو ایسے شخص کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں۔ اگر بوجہ ثواب جماعت کی نماز پڑھے اور نماز اپنی دہرالے تو کوئی گناہ تو نہیں؟
جواب
جب تک کوئی ایسی چیز معلوم نہ ہو جس سے نماز فاسد ہو جاتی ہے تو نماز ادا ہو جائیگی ہاں اگر کوئی چیز ایسی معلوم ہو مثلاً قرآت میں ایسی غلطی کی جس سے معنی بگڑ گئے یا اس کے جسم یا کپڑے پر نجاست مانعہ موجود تھی تو نماز نہیں ہوئی دوبارہ پڑھنا ضروری ہے، جب کہ دوسرا شخص صحیح پڑھنے والا طہارت ونماز کے مسائل سے واقف متبع سنت امامت کے لئے موجود ہو تو جھوٹ بولنے والے غلط قرآت کرنے والے نا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔