أعرج وابرص کی امامت
سوال
وہ فہرست جن کو امامت کرنا مکروہ ہے، اس میں أعرج أبرص داخل ہیں کہ نہیں؟ اگر داخل ہیں تو کیا تفصیل ہے؟ نیز یہ کراہت اس کے مقابل میں اگر کوئی اعلم بالسنہ موجود ہو تب ہے یا علی الاطلاق؟
جواب
درمختار میں ابرص بھی مذکور ہے الشامی قید البرص بالشيوع ليكون ظاهراً وكذلك اعرج يقوم ببعض قدمه فالاقتداء بغيره اولی تاتارخانیہ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے اعرج کی امامت خلاف اولی ہے۔ اعمیٰ واعرج عامل بالسنہ ہوں تو ان کی امامت عالم بالسنہ غیر عامل بالسنہ کے مقابلہ میں راجح ہے۔ ابن ام مکتوم اور عتبان بن مالک کی امامت دلیل ترجیح ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔