ایک آنکھ اور ایک ہاتھ والے کی امامت!
سوال
جو ایک ہاتھ اور ایک آنکھ سے معذور ہے معلوم نہیں کہ استنجاء ٹھیک سے کرتا ہے یا نہیں وضو کا معلوم ہے کہ ایک فریضہ ترک ہو جاتا ہے یعنی چوتھائی سر کا مسح اور ہاتھ کہنیوں تک ہاتھ نہیں دھلتے، بعض مرتبہ ٹخنوں تک پیر بھی نہیں دھلتے، ایسی حالت میں ان کے پیچھے نماز پڑھنا کہ ان سے بہتر نماز پڑھانیوالا کوئی نہ ہو تو جائز ہے یا نا جائز؟
جواب
جب وہ مسح نہ کرنے کی وجہ سے وضو کامل نہیں کر سکتے تو ان کو امام بنانا جائز نہیں، خواہ دوسرا آدمی ان سے بہتر امامت کے لائق موجود ہو یا نہ ہو، اگر دوسرا آدمی موجود نہیں تو اس کا انتظام کیا جائے انتظام نہ کرنے کی وجہ سے سب ہی محلہ کے لوگ قصور وار ہیں، معذور شرعی کی امامت کا ناجائز ہونا کتب فقہ شامی وغیرہ میں موجود ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔