الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

لنگڑے کی امامت

سوال

ایک شخص لنگڑا ہے اور وہ باوجود لنگڑا ہونے کے حافظ وقاری بھی ہے بہت اچھا قرآن پڑھتا ہے تو جب وہ نماز پڑھاتا ہے تو عوام الناس اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ لنگڑے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی لہذا ہم اس کے پیچھے نماز نہیں پڑھیں گے۔ تو معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا لنگڑے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی اور اگر کراہت ہے تو تحریمی ہے یا تنزیہی اور عوام الناس کا یہ اعتراض کرنا بجا ہے یا نہیں اور جولوگ اس کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے تو یہ لوگ اس معاملہ میں کیسے ہیں؟

جواب

لنگڑے کو امام بنانا مکروہ تنزیہی ہے تحریمی نہیں اس کے پیچھے نماز ادا ہو جائے جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس کے پیچھے نماز نہیں ہوتی وہ نا واقف ہیں۔ کذا تکرہ خلف مفلوج وابرص شاع برصه وكذا اعرج يقوم ببعض قدمه فالاقتداء بغیره اولیٰ تاتارخانيه وكذا اجذم برجندی شامی ص ۳۷۸ ج ۱)۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو