بہرہ کی امامت
سوال
ایک عالم بالکل بہرہ ہے وہ امامت کرتا ہے تکبیر ہوتے وقت نیت باندھ لیتا ہے بعض اوقات تکبیر ختم ہوگئی اور وہ کھڑا ہے، جب لوگ اشارہ کرتے ہیں تو نیت باندھ لیتا ہے تو کیا اس کے پیچھے نماز ہو جائے گی اور اسے امام رکھنا مناسب ہوگا جبکہ شہر میں اور بھی عالم ہیں؟
جواب
بہرہ آدمی نماز پڑھادے تب بھی درست ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ کبھی اس کو لقمہ دینے کی ضرورت پیش آئے اور وہ نہ سنے اس لئے افضل یہ ہے کہ جو شخص بہرہ نہ ہو اور امام کی صفات اس میں موجود ہوں اس کو امام بنایا جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔