الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جس پر زنا کی تہمت لگائی گئی ہو اس کی امامت

سوال

زید حافظ قرآن ہے اور محلہ کی مسجد میں امام ہے وہ اس محلہ کے ایک شخص کی لڑکی کو پڑھاتے بھی تھے۔ لڑکی کی عمرا ارسال ہوگی۔ نابالغہ ہے۔ ایک دن ایسا ہوا کہ زیتون پڑھائی کے کمرہ سے روتی ہوئی نکلی اور اس کی اندام نہانی سے خون بہہ رہا تھا۔ گھر والے دوڑے ہوئے آئے اور امام صاحب سے دریافت کیا کہ کیا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ مارنے کی چھڑی سے جو کہ بانس کی تھی کونچہ لگایا۔ غصہ میں وہ غلطی سے اندام نہانی میں لگ گئی اور خون نکلنے لگا۔

جواب

صورت مذکورہ میں امام صاحب مذکور کو زانی قرار دینا اور ان پر زانی کے احکام جاری کرنا درست نہیں۔ جو ثبوت زنا کے لئے شرعاً ضروری ہے وہ موجود نہیں، لیکن بچی کو بانس کی چھڑی سے مارنے کا بھی حق نہیں۔ رد المحتار میں اس کی ممانعت موجود ہے۔ امام صاحب کو اپنے اس جرم کا اقرار ہے کہ وہ مجرم اور گنہگار ہیں جو صورت پیش آئی ہے وہ ان سے بدگمانی کا سبب بن سکتی ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو