الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

زانیہ کے شوہر کی امامت

سوال

زید کی شادی ایک عورت سے ہوئی جس کے بطن سے ایک لڑکی تولد ہوئی لڑکی جب دو سال کی ہوئی تو عورت مذکور دیگر شخص سے ناجائز تعلقات پیدا کر کے اس کے ہمراہ چلی گئی زید کی عدم موجودگی میں زید اور اس کے اعزہ واقارب ایک برس تک تلاش کرنے میں نہایت پریشان رہے عدالتی کارروائی بھی چھ ماہ تک رہی لیکن نا کامیاب رہے بعد عرصہ ایک برس تقریبا اتفاقاً ایک جگہ سے ہمراہ زانی وہ پکڑی گئی جب کہ وہ حاملہ تھی بدکاری سے اس وقت قطعاً زید کے ساتھ رہنے کو پسند نہ کرتی تھی لیکن زبر دستی زید نے پکڑ کر اس کے والدین کے سپرد کردی کچھ روز بعد اس کے بطن…

جواب

زید اپنی بیوی کی اس حرکت سے خوش نہیں بلکہ نا خوش ہے اور اب جبکہ زوجہ نے توبہ کر لی ہے تو پھر کیا اشکال ہے قرآن کریم اور حدیث شریف سے بھی توبہ کا مقبول ہونا ثابت ہے، اگر بالفرض زید کی زوجہ اب بھی حرام کاری میں مبتلا ہے اور زید اس حرام کاری سے نا خوش ہے اور زوجہ کو روکتا ہے مگر وہ باز نہیں آتی تو ایسی صورت میں بھی زید کے ذمہ واجب نہیں کہ اس زوجہ کو طلاق دے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو