نامحرم عورتوں سے بدن دبوانے والے کی امامت
سوال
زید ایک مسجد میں امام ہے اور قرآن مجید کا حافظ ہے اور پانی پتی لہجہ میں پڑھتا ہے مگر اس کی شادی نہ ہونے کی وجہ سے بعض بعض باتیں خلاف شرع معلوم ہوتی ہیں۔ جس کی وجہ سے بعض نے تو ان کے پیچھے نماز پڑھنی ہی چھوڑ دی ہے اور بعض بادل ناخواستہ پڑھتے ہیں اور خلاف شرع یہ باتیں ہیں۔ کہ ایک دفعہ حافظ صاحب نمونیہ میں مبتلا ہو گئے تو مرض میں غیر محرم مستورات سے بدن دبواتے رہے جو کہ حافظ کی دور کی رشتہ دار ہیں مثلاً ایک بچی ہے جس میں بہت دور کا واسطہ ہے اور اسی طرح سے ایک دور کے چچا زاد بھائی کی عورت جس کو حافظ صاحب بھاوج کہہ کر…
جواب
صرف اتنی باتوں سے بدگمان ہو کر ان کے پیچھے نماز چھوڑ دینا اور ان سے نفرت کرنا مناسب نہیں بہتر یہ ہے کہ نرمی اور مناسب طریقہ سے ان کو سمجھا دیا جائے کہ آپ کی ان باتوں سے لوگوں کو بدگمانی اور نفرت پیدا ہوتی ہے۔ لہذا آپ احتیاط کریں۔ خصوصاً جب کہ آپ کی شادی بھی نہیں ہوئی تو اور زیادہ بدگمانی کا موقعہ ہے ویسے بھی شرعاً اجنبی عورت کے ساتھ یعنی نامحرم (جس سے پردہ فرض ہو)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔