الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مستورات کو بے پردہ بیعت کرنے والے کی امامت

سوال

سائل کا بیان ہے کہ ایک عالم صاحب نے کسی پیر صاحب سے خلافت حاصل کر کے عورتوں کا حلقہ باندھ کر بیٹھا کر نصیحت کرتے ہیں اور بے پردگی سے مرید بھی کرتے ہیں، اور عورتیں ان کی قدم بوسی بھی کرتی ہیں، اس وجہ سے مسجد کے امام صاحب اور متولی اور اکثر اہل قریہ اس پر ناراض ہیں، یہ عالم صاحب امام ومتولی کے بغیر اجازت کے کسی دن جمعہ کی نماز پڑھا دیں تو نماز ہوگی یا نہیں، کوئی غیر آدمی امام کے علاوہ نماز پڑھانے کا حکم کریں تو کیا حکم ہے؟

جواب

نامحرم عورتوں کو بے پردہ سامنے بیٹھانا اور حلقہ بنا کر یا بغیر حلقہ ہی ان کو اس طرح مرید کرنا اور عورتوں کا ان کی قدم بوسی کرنا خلاف سنت اور شرعاً ممنوع ہے، اس کو بالکل بند کیا جائے، جب کسی مسجد میں امام مقرر ہیں وہ امامت کا اہل ہے تو کسی عالم صاحب کو بغیر امام کی اجازت کے خود آگے بڑھ کر جمعہ یا کوئی نماز پڑھانے کا حق نہیں، حدیث پاک میں اس سے منع فرمایا گیا ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو