الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

فتوی صحیح سمجھنے کے باوجود اس پر عمل نہ کرنے والے کی امامت

سوال

میں اپنی آنکھیں بنوانے کے سلسلہ میں تیار ہی تھا کہ اتنے میں رجعت نامہ مل گیا۔ مرتکبین جرم کو سنایا گیا لیکن ان پر جہل اس قدر غالب ہے کہ کسی مفتی کے فتویٰ پر عمل نہیں کرتے اور صاف انکار کر دیا کہ ہم تو یہ نہیں کریں گے۔ ہندوستان کے مفتیوں کے خلاف ہیں، ایسی صورت میں ان پر شرعاً معصیت عائد ہوتی ہے جو فسق پر دلالت کرتی ہے۔ مسلمانوں کی کوئی حکومت نہیں اور نہ پنچایت ہی قائم رہی کوئی کسی کی نہیں سنتا اور سخن پروری مسلط ہو چکی ہے۔ اب ان کی امامت کا کیا حکم ہے اور ایسے لوگوں سے معاملات رکھنے چاہئیں یا نہیں؟

جواب

فتوے کو صحیح سمجھنے کے باوجود اس کو تسلیم نہ کرنا بڑا جرم ہے جس کی سخت سزا ہے۔ امامت کا منصب تو جلیل القدر منصب ہے۔ ایسا آدمی اس کا اہل نہیں۔ البتہ کسی اہل علم کے نزدیک اس کے علم وبصیرت کی روشنی میں فتوی ہی صحیح نہ ہو، یا اس کے نزدیک سوال ہی غلط قائم کیا گیا ہو تو اس کا حکم یہ نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو