تاڑی فروخت کرنے والے کی امامت
سوال
(۱) زید حافظ قاری ہیں، بیوی کا انتقال ہو گیا ہے، عقد ثانی نہیں کیا ہے، چال چلن مشکوک ہونے کی شہرت ہے داڑھی صرف دو انگل رکھتے ہیں، جس کی ہمیشہ تراش خراش کرتے رہتے ہیں، کھجور کا باغ ان کی ملکیت میں ہے، جس سے تاڑی نکالی جاتی ہے، تاڑی والوں کو یہ باغ فروخت کرتے رہتے ہیں، زید کا یہ فعل جائز ہے یا نہیں؟ (۳) بکر حافظ ہیں معمر ہیں شرعی داڑھی ہے، صوم وصلوٰۃ کے پابند ہیں، مسائل سے بخوبی واقف ہیں، بیوی بچے موجود ہیں، چال چلن مشکوک نہیں ہے،سوال یہ ہے کہ زید کی امامت اولی ہے یا بکر کے پیچھے نماز پڑھنا افضل ہے؟
جواب
ان دونوں صورتوں میں بکر امامت کے لئے مستحق واولی ہے، ایک مشت تک پہنچنے سے پہلے داڑھی کٹانا درست نہیں ہے، تاڑی والوں کو کھجور فروخت کرنا مکروہ ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔