بغیر علم کے مسئلہ بتانے والے اور حدیث کی طرف منسوب کرنے والے کی امامت
سوال
اگر کوئی شخص قرآن شریف پڑھ کے ایک مسجد کا امام بن گیا پھر وہ لوگوں کو مسئلہ بتانے کے وقت کہتا ہے کہ یہ مسئلہ حدیث کا قول ہے حتی کہ ہر ایک مسئلہ میں کہتا ہے تو اگر حدیث کا قول نہ ہو تو اس امام کے متعلق کیا حکم ہے؟
جواب
جو شخص خود واقف نہ ہو اس کے لئے مسئلہ بتانے کی اجازت نہیں اور جو شخص اپنی طرف سے بات بنا کر کہدے کہ حدیث شریف میں حضور ﷺ نے اس طرح فرمایا ہے تو وہ جھوٹا اور کذاب ہے حدیث شریف میں ہے۔ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّداً فَلْيَتَبَوَّا مَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ رواه البخارى وعن سمرة بن جندب والمغيرة بن شعبة قالا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مَنْ حَدَّثَ عَنِّي بِحَدِيثٍ يُرَى أَنَّهُ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔