الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

دوسروں کا روپیہ نہ دینا یہ کہہ کر کہ میرا روپیہ دوسروں کے پاس ہے

سوال

اگر کوئی آدمی تاجر تھا اس کا کام فیل ہو گیا۔ لوگوں کا پیسہ اس کے پاس موجود ہے اور دوسرے لوگوں کے پاس اس کا روپیہ موجود ہے۔ جب وہ دائن اپنا قرض طلب کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ دوسرے لوگوں نے ہمارا روپیہ مار لیا ہم تمہارا پیسہ نہیں دیں گے۔ تو حق العباد تلف کرنے والے کے پیچھے نماز درست ہے جب کہ وہ معاف بھی نہ کرایا ہو؟

جواب

جو شخص دوسروں کا روپیہ مارلے اور استطاعت کے باوجود واپس نہ دے اور مطالبہ کرنے پر یہ کہدے کہ میرا روپیہ غیروں کے پاس مارا گیا اس لئے میں تمہارا روپیہ نہیں دیتا۔ وہ شخص بہت گنہگار ہے۔ اس کو امام بنانا مکروہ تحریمی ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو