ہندؤوں کا بکرا ذبح کرنے والے کی امامت
سوال
اہل ہنود کافر، زید کے مکان پر آئے اور کہا چلو صاحب ہمارے دو بکرے ذبح کر دو یہ مسلمان اس کے ساتھ دریا پر بلا روک ٹوک چلا گیا ذبح کرنے سے پہلے اس مسلمان نے ان آدمیوں (کفاروں) سے دریافت کیا کہ بکروں کو کس کے واسطے ذبح کرتے ہو۔ کہا کہ ہمیں خواجہ کی بھینٹ دینی منظور ہے ان اہل ہنود کے ساتھ سوائے بکروں کے دلیا بھی بھینٹ کے لئے موجود تھا جو مسلمانوں کی نظروں نے بھی دیکھا ہے اب پوچھنا اس امر کا ضروری ہے کہ ایسے آدمی کے پیچھے نماز پڑھنی کیسی ہے؟ ۲۔
جواب
اگر اس مسلمان نے ان کفار سے یہ کہا ہے کہ ان بکروں کو خدا کے نام پر ذبح کرو اور ثواب خواجہ کو پہونچاؤ تب تو اس کے ذبح کرنے میں کوئی نقصان نہیں اس سے اس کی امامت میں کوئی خرابی نہیں آئی اور جب کہ کوئی اور شخص وہاں موجود نہیں تھا اور وہ مسلمان کہتا ہے کہ میں نے ایسا کہا ہے تو پھر اس کا اعتبار کیوں نہیں کیا جا تا تردید کی وجہ کیا ہے اس کا اعتبار کرنا چاہئے محض اس وجہ سے کہ شاید…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔