الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جھوٹے شخص کو امام مقرر کرنا

سوال

ہم نے ایک فارغ التحصیل مولوی امام کو اپنی مسجد میں امام رکھا اس نے اپنے آپ کو یتیم ظاہر کیا تھا، اور ہم نے اس کی زکوۃ فطرہ وغیرہ سے کافی مدد کی بعد میں معلوم ہوا کہ وہ قوم کا تو فقیر ہے اور سب بیانات غلط ظاہر ہوئے، اب ایسے شخص کو امام رکھا جائے یا نہیں؟

جواب

اس نے اپنے آپ کو یتیم ظاہر کیا یتیم تو نا بالغ ہوتا ہے، نابالغ کو امام مقرر کرنا جائز نہیں، اس کے پیچھے نماز درست نہیں ہوتی، بالغ ہونے پر یتیم نہیں رہتا، اگر اس نے غلط بیانی سے کام لیا، پھر اس کا جھوٹ اور فریب ظاہر ہو گیا، تو اس کو امام بنانا مکروہ ہے، جب تک وہ توبہ نہ کرے امام کی تنخواہ رضا مندی پر ہے، اگر مقررہ تنخواہ دینے پر رضا مندی نہیں ہے، تو امام کو خود بھی حق ہے کہ…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو