امام کا مقتدی کو کتا کہنا!
سوال
کیا امام کے لئے جائز ہے کہ مقتدی کو کتا کہے اور یہ بھی کہے کہ دفع ہو جا اور کہیں جا کر نماز پڑھو اور یوں کہے کہ اگر مجھے ہٹا دیا گیا میرا قائم مقام لایا گیا تو مسجد میں خون کی ندیاں بہا دونگا اور میں اپنے مخالف کو ہلاک کر دوں گا میرے پاس ایسے بہت لوگ ہیں جو یہ کام کر سکتے ہیں۔
جواب
امام صاحب سے ہرگز توقع نہیں کہ وہ اپنے مقتدی کو بلا وجہ کتا کہیں اور مسجد سے نکالیں امام صاحب کے لئے تو لازم ہے کہ وہ مقتدیوں کے لئے بھی دعائے خیر کیا کریں اور مسجد کو اور زیادہ آباد کرنے کی کوشش کریں اور اگر مقتدی نے کچھ نالائقی کی ہو اور اس پر ڈانٹ دیا ہو تو یہ ممکن ہے تاہم مقتدیوں کے ذمہ امام کا ادب واحترام واجب ہے اور امام صاحب کو بھی چاہئے کہ سب سے اخلاق ومروت کا معاملہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔