گانا بجانے والی عورت کے شوہر کی امامت
سوال
(الف) وہ حفاظ جو مختلف مساجد میں امامت کراتے ہوں اور ان کے مکانات مسکونہ کسی ایک مسجد سے بہت ہی ملحق ہوں مگر ان کی عورتیں ان کی موجودگی ہی میں اپنے ناچ گانے اور بے ہودہ نغمات سے نمازیوں کے خیالات منتشر کرتی ہوں حالانکہ مسلمان غیر مسلموں سے فوراً دست وگریباں ہو جاتے ہیں اگر وہ کسی مسجد کے پاس سے باجا بجاتے ہوئے نکل جاتے ہیں۔ (ب) اگر ان کے ان شوہروں کو کہ وہ امام ہیں روکنے کے لئے کہا جاتا ہے۔ تو وہ حجت کرتے ہیں اور دین سے بے خبر لوگوں کی عورتوں کو اپنی عورتوں کے لئے مثال بناتے ہیں۔ لہذا۔ (الف)
جواب
اگر وہ امام اپنی عورتوں کے روکنے پر قادر ہیں اور پھر نہیں روکتے تو وہ لوگ گنہگار ہیں ان کے ذمہ واجب ہے کہ عورتوں کو نا شائستہ اور نا جائز افعال سے منع کریں۔ اگر وہ روکنے پر قادر نہیں یا روکتے ہیں لیکن نہیں مانتیں پھر ان اماموں پر عورتوں کے ان افعال کا گنہ نہیں، اور اس صورت میں انکی امامت میں بھی اس سے نقصان نہیں آتا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔