قوالی سننے والے کی امامت
سوال
زید پیرزادہ ہے، موجودہ دور کی قوالی مع مزامیر سنتا ہے، رسم گا گر کرتا ہے، چادر مرغا جو لوگ قبر پر چڑھاتے ہیں اس کو بھی منع نہیں کرتا۔ حتی کہ طواف قبر وسجدہ سے مانع نہیں ہوتا۔ ایسے شخص کو امام بنانا جائز ہے یا نہیں؟ اور اس نماز کا کیا حکم ہے جو ایسے شخص کی امامت میں ادا کی گئی ہو؟
جواب
جو شخص امور مذکورہ کا ارتکاب کرتا ہے، یا قدرت کے باوجود ان امور کو منع نہیں کرتا بلکہ بلا تکلف دیکھتا رہتا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان امور سے ناخوش نہیں۔ ایسے شخص کو امام نہ بنایا جائے۔ اس کو امام بنانا مکروہ تحریمی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔