الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جو شخص ستر کا اہتمام نہ کرے اس کی امامت

سوال

(۱) اگر کوئی شخص بسا اوقات کاشف العورۃ رہے یعنی بکار دنیوی مشغول ہو کر مانند لنگوٹ کے کپڑا پہنے رہے تو اس عالم با صفت مذکورہ کے پیچھے عند الشرع نماز جائز ہے یا نہیں؟ (۲) اگر کوئی عالم ننگا ہو کر نہر یا چشمہ پار ہو جاوے دریں حالت کہ اس کے آس پاس آدمی بھی موجود ہوں تو اس شخص پر منجانب شرع کیا حکم ہے؟

جواب

لنگوٹ باندھنے میں ران اور گھٹنے کھلے رہتے ہیں حنفیہ کے نزدیک یہ عورت میں داخل ہیں اور ان کا چھپانا ضروری ہے ان کو علانیہ کھولنے والا فاسق ہے ان عالم کو اس سے اجتناب اور توبہ لازم ہے اگر وہ توبہ نہ کریں تو ان کو امام بنانا مکروہ تحریمی ہے بشرطیکہ ان سے بہتر امامت کے لائق دوسرا شخص موجود ہو۔ (۲) اس کا جواب (۱) سے ظاہر ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو