تعلیم یافتہ بے داڑھی والے کی امامت
سوال
ایک موضع میں مسجد ہے جس میں زید امامت کرتا ہے زید داڑھی نہیں رکھتا۔ موضع میں صرف زید ہی ایسا ہے جو امامت کے قابل تعلیم یافتہ ہے۔ دیگر اشخاص صرف نماز پڑھنے کی قابلیت رکھتے ہیں خطبہ وغیرہ نہیں پڑھ سکتے ایسی صورت میں امامت کے متعلق زید کو کیا حکم ہے۔ حالانکہ جو لوگ خطبہ پڑھنے کی قابلیت نہیں رکھتے ان میں سے چند داڑھی بھی رکھتے ہیں۔ کبھی کبھی ایسے شخص آجاتے ہیں جو کافی علم داں ہوتے ہیں اور داڑھی بھی رکھتے ہیں۔ لوگوں کی موجودگی میں امام مذکور بالا کیا امامت نہیں کر سکتے؟ ان
جواب
زید کو چاہئے کہ داڑھی شریعت کے موافق رکھے پھر امامت کرے جو شخص نماز پڑھا سکتا ہے خطبہ نہیں جانتا اس کو چاہئے کہ الحمد شریف اور درودشریف، سوم کلمہ، استغفار پڑھ دے۔ بس خطبہ ادا ہو جائے گا یہ ضروری نہیں کہ جو خطبہ کتابوں میں لکھا ہوا ہے وہی پڑھے اور جب مسائل سے واقف متبع سنت شخص موجود ہو تو داڑھی نہ رکھنے والے کو امام بنانا مکروہ تحریمی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔