الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ایک امام کے حالات

سوال

زید پیش امام ہے وہ اپنی گذر اوقات کے لئے تجارت بھی کرتا ہے لیکن اس کا معاملہ اچھا نہیں اکثر اشخاص ان سے شاکی ہیں اکثر اوقات اپنی مصروفیت کی بناء پر جماعت بھی دیر سے ہوتی ہے اور نمازیوں کو انتظار کرنا پڑتا ہے۔ بکر کہتا ہے کہ زید کے پیچھے نماز مکروہ ہے بہتر ہے کہ غیر محلہ میں نماز ادا کی جائے بکر کا یہ کہنا از روئے شرع کہاں تک صحیح اور درست ہے ایسے امام کے پیچھے نماز ہوتی ہے یا نہیں۔ اگر نہیں ہوتی تو جو نمازیں آج تک پڑھی ہیں ان کو لوٹایا جائے۔ اگر وہ ہوتی ہیں تو تحریمی یا تنزیہی۔ احکام شرعیہ سے مطلع فرمائیں۔

جواب

معاملہ کیا اچھا نہیں؟ اکثر لوگ کس بات کے شاکی ہیں اگر وہ کوئی گناہ کی بات اور خلاف شرع کام ہے تو زید کو اس سے توبہ ضروری ہے اور اگر وہ توبہ نہ کرے تو اس کو امام بنانا منع ہے بشرطیکہ اس سے بہتر امامت کے لائق دوسرا شخص موجود ہو۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو