داڑھی منڈے کا عید کا خطبہ
سوال
ہمارے یہاں عیدین کا خطبہ وکیل صاحب پڑھتے ہیں جن کی ڈاڑھی مونچھ صاف ہے۔ نماز دوسرے حافظ صاحب پڑھاتے ہیں۔ دعا تیسرے وکیل صاحب کراتے ہیں تو یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟ وکیل صاحب ڈاڑھی کے سلسلہ میں کہتے ہیں کہ خطبہ کے لئے ڈاڑھی کی کوئی قید نہیں اگر رکھنی ہی ہوگی تو ہم موسمی ڈاڑھی رکھ لیں گے، یعنی خطبہ کے ایک ہفتہ پہلے رکھ لیں گے۔ سوال یہ ہے کہ اس طرح نماز پڑھنا کیسا ہے؟
جواب
اچھی بات تو یہ ہے کہ نماز اور خطبہ دونوں کام ایک ہی شخص انجام دے۔ اگر چہ دونوں کام دو آدمیوں کے کرنے سے بھی ادا ہو جائیں گے۔ وکیل صاحب حضرت رسول مقبول ﷺ کا حکم مان کر شرعی ڈاڑھی رکھ لیں تو بہت بڑے اجر کے مستحق ہوں گے۔ موسمی ڈاڑھی کی کوئی قدر وقیمت نہیں بلکہ یہ تو شریعت کے ساتھ فریب کاری ہے کہ خطبہ پڑھنے کے خاطر رکھی گئی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔