داڑھی کٹانے سے توبہ کر لی مگر ایک مشت تک نہیں پہنچا
سوال
ایک حافظ قرآن ہے اس نے شروع شروع میں داڑھی کٹائی ہے اور اب ایک سال سے تائب ہو کر ایک مدرسہ میں خدمت دین انجام دے رہا ہے، اتنے عرصہ کے بعد اس نے امامت کرائی ایک شخص نے کہا کہ اس کے پیچھے نماز نہ ہوگی تا وقتیکہ اس کی داڑھی ایک قبضہ نہ ہو جائے، حافظ مذکور کی داڑھی بہت چھیدی اور کم ہے اور کم بڑھتی ہے، اس صورت میں آیا اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں، یا داڑھی کے ایک مشت ہونے کا انتظار کیا جائے؟
جواب
اگر سال بھر سے توبہ کرنے کے بعد وہ داڑھی کٹا کر چھوٹی نہیں کرتا، بلکہ قدرتی طور پر اس کی داڑھی کم نکلتی ہے تو اس کی وجہ سے اس کی امامت میں خرابی نہیں آئے گی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔