الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جاہل چور کی امامت

سوال

زید امام ہے اور بے علم ہے فقط قرآن شریف پڑھا ہوا ہے وہ بھی غلط پڑھتا ہے اور معلوم نہیں کہ کس طرح پڑھنے سے نماز فاسد ہو جاتی ہے اور کس طرح نہیں اگر موقعہ ملے تو چوری بھی کر لیتا ہے اور غسالی اس کا پیشہ ہے نکاح سابقہ پر دیگر نکاح کرا دیتا ہے۔ مسجد میں آکر نماز پڑھ لی اگر کسی دوسری جگہ ہو تو نماز قضا کر دیتا ہے۔ قوم کو اس سے نفرت ہے۔ زید کی وجہ سے جامع مسجد میں صرف بیس پچیس آدمی موجود رہتے ہیں حالانکہ آبادی گاؤں کی ہزار تک ہے۔ اب ایسے شخص کی امامت جائز ہے یا نہیں؟

جواب

اگر واقعی یہ امور اس میں موجود ہیں اور اس سے بہتر امامت کا اہل آدمی موجود ہے تو اس کو امام بنانا مکروہ تحریمی ہے بہتر شخص کو امام بنانا چاہئے۔ اگر یہ شخص ان امور سے توبہ کرلے اور آئندہ ایسی ممنوعات نہ کرے۔ نیز قرآن شریف صحیح پڑھے تو اس کی امامت منع نہیں ہے اگر گاؤں کی آبادی صرف ایک ہزار ہے تو اس میں جمعہ جائز نہیں ہے جواز جمعہ کے لئے کم از کم تین چار ہزار آدمی اور بازار میں…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو