ایک امام کے خراب حالات ڈاڑھی کی حد!
سوال
ہمارے محلے کی مسجد میں جو پیش امام ہے اس محلہ سے کچھ دوری پر ایک جامع مسجد آباد ہے جس میں چند اشخاص زیادہ تر نماز ادا کرتے ہیں، صرف فجر کی نماز ایسی ہے کہ جس میں کم وقت رہتا ہے اور جامع مسجد پہونچنے میں نماز نکل جانے کا خدشہ رہتا ہے ایسی صورت میں یہ لوگ اس محلہ کی مسجد میں مقیم پیش امام کے پیچھے اپنی نماز ادا کرتے ہیں کیا یہ درست ہے اور امام صاحب کے عقائد یہ ہیں بزرگوں کی نیاز وغیرہ کو ضروری سمجھتے ہیں اور قبروں کو سجدہ کرنا جائز کہتے ہیں اور عوام جتنے بھی افعال آج کل بزرگوں کی قبروں پر کرتے ہیں اسکو اچھا سمجھتے…
جواب
ایسے شخص کو امام بنانا اور اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا جائز نہیں، اگر یہ امام اپنے عقائد فاسدہ اقوال کاسدہ اعمال قبیحہ سے تائب ہو کر اپنی اصلاح نہ کرے اور متبع سنت نہ بن جائے تو اس کو امامت سے جدا کرنا واجب ہے، جدا کرنے پر قدرت نہ ہو تو اس کے پیچھے نماز نہ پڑھے دوسری مسجد میں جا کر جہاں کا امام صحیح العقیدہ اور متبع سنت ہو نماز پڑھا کریں ورنہ اپنی نماز کو تو یہ امام تباہ کرتا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔