الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مستقلاً سنت چھوڑنے والے کی امامت!

سوال

زید ایک مسجد میں امام ہے اور حفظ کے بچوں کو تعلیم بھی دیتا ہے جس کی وجہ سے دو تنخواہیں الگ الگ ملتی ہے۔ مذکورہ امام تمام وقت کی سنتیں نہیں پڑھتا، خواہ وہ مؤکدہ ہوں یا غیر مؤکدہ، کہے جانے پر کہتے ہیں کہ غیر مؤکدہ نہ پڑھنے پر کوئی بات نہیں ہے، یہ تو سب جانتے ہیں لیکن ہر وقت قصداً نہ پڑھنا کیسا ہے ان کے اس فعل سے جاہل طبقہ پر بھی اثر پڑتا ہے، اور ان کے شاگرد ایسا ہی کرتے ہیں۔ ایک نمازی صاحب نے ان کے اس فعل پر ان سے کہا بھی جس کا انہوں نے مذکورہ جواب دیا، مسجد زیادہ تر جاہل محلے والوں کی ہے؟

جواب

سنت مؤکدہ کا مستقلاً ترک کرنا اور ترک کی عادت ڈال لینا بد نصیبی ہے۔ حضور اکرم ﷺ کی شفاعت سے محرومی کا سبب ہے، ایسے شخص کو امام بنانا مکروہ ہے سنتوں کا اہتمام چاہئے سنت غیر مؤکدہ کا پڑھنا بھی فضیلت کی چیز اور حسنات میں ترقی کا ذریعہ ہے لیکن اگر کوئی شخص ترک کرے تو اس پر مواخذہ نہیں مگر غیر مؤکدہ کو بھی حقیر اور خفیف سمجھنا درست نہیں ہے تحفۃ الاخیار میں سنت سے متعلق نہایت اعلیٰ…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو